بنگلور، 22 ستمبر (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کل جمعرات کو گورنر وجوبھائی والا سے ملاقات کرکے تمل ناڈو کو کاویری دریا کا پانی نہ دینے کے اپنی حکومت کے فیصلے کی اطلاع دی اور ساتھ ہی ان سے ایک دن کیلئے(یعنی آج جمعہ کو) اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اپیل کی۔ کل جماعتی میٹنگ کے بعد ریاستی کابینہ نے گزشتہ رات کاویری آبی تنازعہ پر بحث کے لئے ایک دن کا اسمبلی اجلاس طلب کر نے کا فیصلہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے لئے کاویری دریا کا پانی چھوڑنے کی کرناٹک کو ہدایت دی تھی، جس کے خلاف ریاست گیر سطح پر احتجاج جاری ہے۔مسٹر سدرامیا نے گورنر ہاؤس میں گورنر سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہاکہ میں نے سات دن کے لئے تمل ناڈو کو 6000 کیوسک پانی دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پیدا ہوئی صورتحال اور کاویری طاس کے ذخائر میں کم پانی کی سطح کی وجہ سے پانی نہ چھوڑنے کے تمام سیاسی جماعتوں کے خیالات سے گورنر کو آگاہ کیا ہے۔ سدرامیا نے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ایس ایم کرشنا سے بھی ملاقات کی اور ان کی مکمل حمایت حاصل کی۔ مسٹر کرشنا نے صحافیوں کو بتایا کہ کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے اور کل خصوصی اجلاس بلانے کا کرناٹک حکومت کا قدم قانون کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا، "ہم اب پانی چھوڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور اس معاملے پر میں حکومت کی پوری حمایت کرتا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پیچیدہ صورت حال میں حکومت کا ساتھ دیں۔ مسٹر کرشنا کو بھی وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی مدت کے دوران ایسی صورت حال سے نمٹنا پڑا تھا اور انہوں نے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔اس درمیان مسٹر سدارمیا کانگریس اعلیٰ کمان سے ملنے آج نئی دہلی کے لئے روانہ ہوں گے۔ امکان ہے کہ وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی سے مل کر حالیہ واقعات سے انھیں باخبر کریں گے۔